بنگلورو، 13؍نومبر(ایس او نیوز) برہت بنگلور مہانگر پالیکے کے افسروں کی مبینہ لاپروائی کے نتیجے میں راجدھانی کے بلدی ادارے کو 300 کروڑ روپیوں کا خسارہ ہونے کا انکشاف سی اے جی رپورٹ میں کیاگیا ہے۔
2015-16کے دوران کی گئی ادائیگی کی آڈٹ کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ بی بی ایم پی کے اسسٹنٹ ریوینیو افسروں کے دفتروں میں برتی گئی لاپروائی کے نتیجے میں یہ خسارہ اٹھانا پڑا ہے۔اس مدت کے دوران بی بی ایم پی کے مختلف اے آر او دفاتر میں اثاثہ مالکوں سے کوئی بٹرمنٹ چارج وصول نہیں کیاگیا ، بعض دفاتر میں حکومت کی طے شدہ شرحوں کے مقابل بہت ہی کم چارجس لئے گئے۔
بی بی ایم پی کو سب سے زیادہ نقصان بیاٹرائن پورہ اے آر او دفتر میں ہوا، جہاں تھنی سندرا علاقے میں زیر تعمیر نئی نئی عمارتوں سے کوئی بیٹرمنٹ چارج وصول نہیں کیاگیا اور یہ 79 کروڑ روپیوں تک پہنچ گیا، اسی طرح کنگیری سب ڈویژن کے دفتر اے آر او میں 42.44 کروڑ روپیوں سے زیادہ کے بیٹر منٹ چارجس کی وصولی میں مکمل لاپروائی کا مطاہرہ کیاگیا۔ مارتھ ہلی ڈویژن میں 66کروڑ روپیوں کے بیٹرمنٹ چارجس وصول نہیں ہوپائے۔ مہادیو پورہ ڈویژن میں 31کروڑ کی رقم نظر انداز کردی گئی۔ راجہ راجیشوری نگر سب ڈویژن میں 19کروڑ روپے وصول نہیں کئے گئے۔ اس کے علاوہ اثاثوں کے اندراج میں کئی خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور اثاثوں کا اصل رقبہ اور درج شدہ رقبوں میں کافی فرق پایا گیا ہے، اس طرح کا فرق یلہنکا ، ہیرو ہلی ، کوڈگے ہلی، ماروتی سیوانگر، ایس ایچ آر نگر ، پینیا ، انجانا پورا اور دیگر مقامات میں پایا گیا ہے۔ ان مقامات پر اثاثوں کا رقبہ کم درج کرکے اسسٹنٹ ریوینیو افسروں نے اثاثہ مالکوں سے کم بیٹر منٹ چارجس وصول کرکے ان کی ادائیگی پر منظوری کی مہر ثبت کردی ہے۔
ایک اندازے کے مطابق 2015-16 کے دوران بی بی ایم پی کو ان لاپروائیوں سے 300 کروڑ روپیوں سے زیادہ کا نقصان اٹھانا پڑا۔ ایسے مرحلے میں جبکہ بی بی ایم پی شدید مالی بحران سے دوچارہے، فنڈز کے لئے اسے ریاستی حکومت کے سامنے ہاتھ پھیلانا پڑتا ہے۔ ان حالات میں اس بلدی ادارے کو تین سو کروڑ روپیوں کا نقصان پہنچانے کا انکشاف افسوسناک ہے۔